خليفہ ہشام سے ايک نوجوان کی بحث کا واقعہ



 اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے زمانے میں ایک مرتبہ عرب کے ایک علاقہ میں سخت قحط پڑا قحط کا یہ سلسلہ سالوں تک جاری رہا


سینکڑوں ہزاروں لوگ اس قحط سالی کے دنوں میں بھوک کی شدت سے سے مرنے لگے


جبکہ اس سخت قسم کی قحط سالی میں عرب کے متاثرین کو اموی خلیفہ ہشام بن عبدلمالک کی طرف سے کوئی امداد نہیں ملی چنانچہ اس علاقہ کے لوگوں نے اپنا ایک وفد اموی خلیفہ ہشام بن عبدلمالک سے امداد کی درخواست کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا


اس وفد میں ایک نوجوان دروس بن حبیب بھی تھا یہ بڑا بیباک نو جوان تھا۔


چنانچہ وفد خلیفہ کی طرف روانہ ہو گیا اور دمشق پہنچتے ہی خلیفہ ہشام کے سامنے پیش ہوا تو ان میں سے کسی ایک کی بھی جرات خلیفہ سے بات کرنے کی نہیں ہوئی


جبکہ وہی نوجوان دروس بن حبیب بھیٹر کو چیرتا ہوا خلیفہ ہشام کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اور بادشاہ سے بات کرنے کی اجازت طلب کی .


اس کی شخصیت میں بہت جاذبیت تھی جو دیکھتا تھا متاثر ہوتا تھا اس لئے بادشاہ بھی اس کی طرف متوجہ ہوا..


دروس نے کہنا شروع کیا: امیر المومنین ! ہم لوگ تین سال سے شدید قحط کی مصیبت میں گرفتار ہیں . اللہ کا عذاب ہم پر قحط کی صورت میں ٹوٹ پڑا ہے … حالت یہ ہے کہ پہلے سال ہمارے جسموں کی چربی گھلی … دوسرے سال گوشت پگھلا اور اب جبکہ یہ تیسرا سال چل رہا ہے ہماری ہڈیوں کی باری آچکی ہے .


ہم لوگ یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہم نے سنا ہے آپ کے خزانے میں بہت مال و دولت جمع ہے اس دولت کی صرف تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہو..


دوسری یہ کہ عوام کی ملکیت ہو اور تیسری یہ کہ آپ کی ذاتی ملکیت ہو..


اگر یہ اللہ تعالی کی ملکیت ہے تو جناب کا اس کو دانتوں سے پکڑ کر رکھنا سمجھ میں نہیں آتا


اور اگر یہ مال عام لوگوں کی ملکیت ہے تو اس کے خرچ کئے جانے کے لئے سب سے پہلے وہی حقدار ہیں .


اور یہ دولت اگر سب آپ کی ذاتی ملکیت ہے تو ایسے نازک وقت میں جب لوگ قحط اور فاقوں سے مررہے ہیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور حکم کے مطابق اس کو خیرات و زکوۃ کے طور پر خرچ کرنے کا اس سے اچھا وقت نہیں ملے گا… اس کے باعث حضور والا کو اجر عظیم اور ثواب دارین حاصل ہوگا … اور آپ کے مال میں خیر و برکت ہوگی … دروس بن حبیب کے یہ فقرے ایسے چست اور دانشمندانہ تھے کہ ہشام بن عبدالملک دنگ رہ گیا نوجوان کی ایسی بیباکانہ اور جرات مندانہ باتوں پر یہ بھی اندیشہ تھا کہ امیر المومنین کا عتاب نازل ہو جائے اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے لیکن وہ اس بات سے ڈرا نہیں


ہشام بن عبدالملک حالانکہ بڑا عظمت و جلال والا خلیفہ تھا مگر اس نوجوان کی پکڑ ایسی تھی کہ وہ اس سے بچ کر نہیں نکل سکتا تھا۔ نوجوان کی بات نے اس کے دل پر گہرا اثر کیا… خلیفہ نے مسکراتے ہوئے کہا اس نوجوان نے ہمارے لیے تینوں میں سے کوئی بھی راستہ فرار کا نہیں چھوڑا … خازن اس وفد کو دس ہزار دینار قحط زدہ علاقہ میں تقسیم کرنے کے لئے دے دیں اور اس کے ساتھ ایک ہزار دینار تنہا اس نوجوان کو دیدیئے جائیں۔


Post a Comment

0 Comments