ايک غلام کی سخاوت کا ايمان افروز واقعہ



ایک حبشی غلام باغ میں آرام کر رہا تھا کہ اس کی روٹی آ گئی … اس وقت حضرت عبداللہ بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ اس کے پاس سے گزرے

انہوں نے دیکھا حبشی غلام کے سامنے ایک کتا بیٹھا ہے … غلام نے کام کرتے کرتے ایک روٹی اس کتے کے آگے ڈال دی … کتے نے اس روٹی کو کھا لیا اور پھر بھی وہیں کھڑا رہا

اس غلام نے پھر دوسری اور پھر تیسری روٹی بھی ڈال دی … اس غلام کے لیے کل تین ہی روٹیاں آئی تھیں … اس نے تینوں کی تینوں روٹیاں اس کتے کو کھلادیں 

حضرت عبداللہ بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ کھڑے غور سے یہ سارا ماجرا دیکھ رہے تھے … جب تینوں روٹیاں ختم ہو گئیں … تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس غلام سے پوچھا: تمہاری کتنی روٹیاں روزانہ آیا کرتی ہیںپ

تو اس غلام نے بتایا کہ تین آیا کرتی ہیں … حضرت عبدالله بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا … پھر تم نے تینوں کیوں کتے کو کھلا دیں ؟

غلام نے جواب دیا … حضرت ! یہاں جنگل میں کتے نہیں رہتے … یہ غریب بھوکا کہیں دور سے سفر کر کے آیا ہے… اس لیے مجھے اچھا نہ لگا کہ اسے ایسے ہی واپس کر دوں 

تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس غلام سے پوچھا … پھر تم آج کیا کھاؤ گے … یہ سن کر غلام نے کہا … ایک دن کا فاقہ کرلوں گا … یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں

حضرت عبداللہ بن جعفر رحمۃ اللہ علیہ نے اس غلام کا جواب سننے کے بعد اپنے دل میں کہا … لوگ مجھے کہتے ہیں… بہت سخاوت کرتا ہے.. لیکن اس غلام کے ایثار کے مقابلے میں میں تو کچھ بھی بھی نہیں ہوں

یہ خیال کر کے وہ شہر گئے … باغ کے مالک سے ملے … اس سے وہ باغ اور غلام خرید لیے … پھر غلام کے پاس پہنچے اور اس سے کہا… میں نے یہ باغ بھی خرید لیا ہے … اور تمہیں بھی خرید لیا ہے اور اب میں تمہیں آزاد کرتا ہوں یہ باغ بھی تمہیں دیتا ہوں

آپ رحمتہ اللہ علیہ کی یہ بات سن کر غلام نے کہا… چونکہ اب آپ کے دل میں میری عزت اور عقیدت سما گئی ہے … اور یہ میرے حق میں زہر ہے … اس لیے اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں .. یہ کہا اور وہ غلام وہاں سے چل دیا


Post a Comment

0 Comments