ايک عابد کا شيطان سے مقابلہ



اپنی کتاب احیاء العلوم میں حضرت امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے


کہ کسی جگہ ایک نہایت عبادت گزار شخص رہا کرتا تھا ایک روز جب اس عابد کو پتہ چلا کہ بعض لوگ فلاں درخت کی عبادت کر رہے ہیں، تو وہ عابد غصہ میں آگئے کہ معبود صرف اور صرف اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے اور صرف اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے


چنانچہ وہ عابد نہایت غصے میں اس درخت کو کاٹنے کے ارادے سے اس طرف چلا ہی تھا کہ


شیطان انسانی شکل بدل کر سر راہ اس عابد سے ملا اور کہنے لگا اگر تو نے اس درخت کو کاٹ بھی دیا تو لوگ کسی اور کی پوجا کرنے لگیں گے، لہذا تم اپنی عبادت میں مصروف رہو اور اس درخت کو مت کاٹو


شیطان کی اس بات پر وہ عابد جو صرف اللّٰہ رب العزت کی عبادت میں مشغول رہتا تھا نے کہا میں اسے ضرور کاٹوں گا


جب شیطان نے دیکھا کہ اس کی یہ تدبیر کامیاب نہ ہو سکی تو شیطان نے پھر سے اس عابد کو روکا تو دونوں میں ہاتھا پائی شروع ہوگئی یہاں تک کہ عابد نے شیطان کو بھاگنے پر مجبور کردیا ،


مگر شیطان باز نہ آیا چنانچہ شیطان نے مکاری کا ایک اور جال پھینکا اور اس عابد کو کہنے لگا کہ میری بات مانو اور اپنی عبادت میں لگے رہو میں ہر رات دو اشرفیاں تیرے سرہانے رکھ دیا کروں گا تو غریب اور نادار آدمی ہے، اگر اللہ تعالٰی کو منظور ہوتا تو وہ کسی اپنے رسول کو بھیجتا جو اس درخت کو کاٹ دیتا۔ جب تو اس درخت کی خود عبادت نہیں کرتا تو تجھے اس سے کیا غرض ہے، عابد شیطان کے جھانسے میں آگیا اور واپس چلا گیا، رات کو واقعی اسے سرہانے سے دو اشرفیاں دستیاب ہوئیں، اسی طرح دوسری شب بھی اسے دو اشرفیاں ملیں۔ جبکہ تیسری شب جب وہ عابد سرہانے کی طرف گیا تو اس کے ہاتھ کچھ نہ لگا


اب اس عابد کو شیطان پر بہت غصہ آیا اور وہ پھر اسی درخت کو کاٹنے کے لئے باہر نکلا تو پھر سے شیطان کو مد مقابل پایا۔ چنانچہ پھر مقابلہ ہوا تو اس دفعہ شیطان غالب رہا۔ عابد نے تعجب سے دریافت کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پہلے میں تجھ پر غالب آیا اور آج تو ؟


عابد کی بات سن کر شیطان بولا ! اس دن تو اللہ تعالٰی کے لئے مجھ پر غضب ناک ہوا تھا اور مجھ پر غالب آگیا تھا مگر آج تو محض دو اشرفیوں کے لئے گھر سے نکلا تیری نیت صاف نہیں تھی آج تو صرف اپنے فائدے کے لئے گھر سے نکلا تو میں تجھ پر غالب آگیا


پتہ چلا کہ نیت خالص


شیطان پر غلبہ دیتی ہے اور بدنیتی کے باعث شیطان غالب آجاتا ہے۔


سبق


پیارے دوستوں ہمیں ہر نیک کام صرف اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی کرنا چاہیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا


اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ نیت کرے گا۔


لہذا ہمیں عمل سے بدھ کر اس کی قبولیت کا اہتمام کرنا چاہیے اپنی نیت پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ہم ہر کام خالص اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر سکیں


اب یہاں پر ایک عالم دین کا مبارک فرمان بھی سنئے


حضرت شیخ معروف کرخی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں جس شخص نے ثواب کی غرض سے عمل کیا وہ تاجر ہے اور جو دوزخ کے خوف یا جنت کی طلب میں عمل کرتا ہے وہ غلام ہے اور جو شخص صرف اللہ تعالٰی کی رضا و خوشنودی کے لئے نیک کام کرتا ہے وہ حقیقتاً آزاد ہے، اور یہی بلند ترین مقام ہے


اور اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا


جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے، تو اسے اچھے عمل کرنے چاہئے، نیز وہ اللہ تعالٰی کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے


اسی کے ساتھ مجھے دیجئے اجازت اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو جائے آمین


الله حافظ

Post a Comment

0 Comments