حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آنسوں



بیٹیاں باپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہیں باپ کو ذرا سی بھی تکلیف پہنچے تو سب سے زیادہ دکھ بیٹیوں کو ہوتا ہے یقین جانیں ساری ساری رات سجدوں میں گزار دیتی ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آنسوں بہا بہا کر ساری ساری رات دعائیں مانگتی رہتی ہیں والدین کے ہر دکھ میں ان کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں کبھی بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑتیں اگر ان سب بیٹیوں کا اپنے والدین سے محبت کا یہ حال ہے تو بیٹی ہو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو کیا ہی شان ہو گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا کیا ہی عالم ہو گا

پاک نبی کی پاک شہزادی ، عزت والے رسول کی عزت والی بیٹی ، اللہ کے پیارے محبوب کی لاڈلی شہزادی ان کی کیا شان ہو گی

پیارے دوستوں ہم نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لاڈلی شہزادی جناب فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیرت کے چند خوبصورت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے چند تحریری مضامین لکھنے کا آغاز کیا تھا یہ اسی کی دوسری قسط ہے

ہم نے اس مضمون میں کچھ واقعات پیش کرنے کی کوشش کی ہے یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف پر جناب فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کس قدر پریشان ہو جایا کرتی تھی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مبارک آنکھوں سے آنسوں جاری ہو جایا کرتے تھے

عزیز اقارب یہ واقعات اس قدر دل پر ضرب لگاتے ہیں کہ اس بندہ ناچیز کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ ان واقعات کو تحریر کر سکوں لیکن پھر کوشش کی اس امید کے ساتھ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مبارک سیرت دوستوں تک پہنچے تا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مبارک سیرت پر عمل کرتے ہوئے کامیابی کی راہیں تلاش کی جا سکیں

واقعہ نمبر 1

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلان نبوت کے بعد مشرکین مکہ کے ظلم وستم کا شکار تھے اور مشرکین مکہ کے ظلم و ستم میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب مشرکین مکہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت پہنچاتا دیکھتیں تو پریشان ہو جاتی تھیں اور آنسو بہانے لگتی تھیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر اپنی پیاری بیٹی کو دلاسہ دیتے اور فرماتے میری بیٹی ! تم فکرمند نہ ہو اللہ عزوجل کبھی بھی تمہارے باپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روتی ہوئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت سے پوچھا میری بیٹی تم کیوں روتی ہو؟ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا ابا جان! میں کیوں نہ رؤں مشرکین قریش کا ایک گروہ حجر اسود کے پاس لات و عزیٰ ومنات کی قسمیں کھا رہا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتے ہی شہید کر دیں گے اور ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس خون سے اپنا حصہ پہچانا نہ ہو؟ حضور نبی کریم م نے فرمایا میری بچی! تم میرے پاس وضو کا برتن لاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فر مایا اور مسجد میں تشریف لے گئے ۔ جب مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پکارے یہ رہے۔ پھر ان مشرکین کے سر جھک گئے اور ان کی ٹھوڑیاں ساقط ہو گئیں اور اپنی آنکھوں کو اٹھا بھی نہ سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مٹھی میں خاک لے کر ان پر ماری اور فرمایا چہرے بگڑ گئے ۔ پھر جس جس شخص کو اس میں سے کوئی کنکری لگی وہ بدر کے دن حالت کفر میں قتل ہوا۔

(مستدرک)

واقعہ نمبر 2

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اعلان نبوت کیا تو مشرکین مکہ آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی جان کے دشمن ہو گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کو اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے اور ہر وقت آپ صلی علیہ وآلہ وسلم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔

چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے دوران نماز ابو جہل نے کہا کوئی ہے جو فلاں قبیلے کے ذبح کئے ہوئے اونٹ کا گوبر، خون اور بچہ دانی لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر حالت سجدہ میں رکھ دے؟ پھر وہ غلیظ چیزیں لا کر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سجدہ میں گئے تو ان کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کے مبارک کندھوں کے درمیان رکھ دی گئیں۔ قربان جاؤں آقا کے صبر پر ک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ ان کے بوجھ کی وجہ سے کافی دیر تک سجدہ میں رہے اور اس دوران مشرکین ہنستے رہے اللّٰہ تعالیٰ کی لعنت ہو ان لوگوں پر

اب قدرت خدا بھی دیکھئے کہ نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کے چچا ہی اس دنیا میں موجود تھے جو وہاں جا کر ان مشرکین کو کرارہ جواب دیتے اور خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی وفات پا چکی تھی اب کسی نے محبوب خدا کے گھر کے دروازے کی طرف منہ کر کے کہا کہ محبوب کے گھر والوں کسی نے محبوب کے سر اقدس پر اوجھڑی رکھ دی ہے محبوب سر مبارک اٹھاتے ہیں تو تکلیف محسوس کرتے ہیں حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوخبر ہوئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو کہ اس وقت کم سن تھیں تشریف لائیں اور ان مشرکین کو برا بھلا کہتے ہوئے اپنے بابا کے مبارک کندھوں سے غلاظت اپنے ہاتھوں سے ہٹانے لگیں۔

واقعہ نمبر 3

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ایک مرتبہ ایک غزوہ سے واپس لوٹے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کو یہ بات زیادہ پسند تھی کہ جب بھی سفر سے واپس لوٹتے تو مسجد میں دو رکعت نماز ادا فرماتے اس کے بعد اپنی پیاری شہزادی حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جاتے اور پھر ازواج مطہرات میں ان کے ہاں تشریف لے جاتے۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کی خوشی میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گھر کی صفائی کر رہی ہیں گھر کو سجا رہی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور وہ اپنے پیارے بابا کے استقبال کے لئے دروازہ پر آئیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت خوش تھیں لیکن جیسے ہی اپنے بابا کا مبارک چہرہ دیکھتی ہیں تو چومنا شروع کر دیتی ہیں اور رونے لگتی ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا چہرہ مبارک آنسوں سے بھر جاتا ہے

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مبارک آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا فاطمہ بیٹی ! کیوں روتی ہو؟ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا بابا آپ کے چہرہ مبارک پر مشقت کے آثار ہیں آپ کا وجود ٹھکا ہوا ہے اور کپڑے پھٹ چکے ہیں انہیں دیکھ کر مجھے رونا آگیا۔

( گویا کہ جیسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے بابا سے کہ رہی ہوں پیارے بابا میں نے ساری زندگی آپ کو مشقت کرتے دیکھا ہے میرے پیارے بابا یہ تو بتائیں کام کب تک کرنا ہے کوئی وقت آئے گا بھی کہ آپ بھی آرام کریں کوئی وقت آئے گا بھی کہ آپ بھی گھر میں بیٹھے اپنی من پسند غذائیں کھائیں کب تک یہ جدوجہد کرنی ہے )

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے آنسوں پونچھے اور فرمایا اے فاطمہ، اللہ عزوجل نے تمہارے باپ کو ایک ایسے کام کے لئے بھیجا کہ روئے زمین پر کوئی اینٹ اور گارے کا مکان اور نہ کوئی ادنی سوتی خیمہ بچے گا جس میں اللہ عزوجل کا یہ کام یعنی دین اسلام نہ پہنچا دوں اور یہ دین وہاں پہنچ کر رہے گا جہاں تک دن اور رات کی پہنچ ہے۔

(کنز العمال)

واقعہ نمبر 4

غزوہ احد کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ جب زخمی ہوئے اور یہ افواہ سرگرم ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کو شہید کر دیا گیا تو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو بہت صدمہ ہوا ، غم سے نڈھال میدان جنگ میں پہنچیں اور جب آپ صلى الله عليه وسلم کو دیکھا تو حواس بحال ہوئے اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خون آلود چہرہ صاف کرنا شروع کیا۔

حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے اس کردار کے متعلق حضرت سہل بن سعد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت مبارک غزوہ احد میں شہید ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں کڑیاں پیوست ہو گئیں اور خون جاری ہو گیا جو رکنے کا نام نہ لیتا تھا۔ اس موقع پر حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا آئیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون صاف کیا اور حضرت علی المرتضی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پانی ڈالتے تھے۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے جب دیکھا کہ خون نہیں رک رہا تو انہوں نے ٹاٹ کا ایک ٹکڑا جلایا اور اس کی راکھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخم میں بھر دی جس سے خون نکلنا بند ہو گیا۔

(مسلم)

عزیز دوستو ان دل سوز واقعات کے بعد دو مزید واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا اور یہ واقعات اگر آپ کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر سکیں تو اس بندہ ناچیز کو دلی خوشی ہو گی

واقعہ نمبر 5

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے ظاہری وصال کے بعد کسی نے حضرت سیدہ فاطمتہ الزاہرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے وہ سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے پاس موجود تھیں اور میں نے کہا حبش میں دیکھا تھا کہ وہ جنازے پر شاخیں باندھ کر اسے ایک ڈولی کی صورت بنا دیتے ہیں اور اس پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ اور پھر میں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر ان پر کپڑا تان کر خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو دکھایا

تو ( اس کو دیکھ کر ) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی اور یہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد پہلی اور آخری مسکراہٹ تھی۔

حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے مجھے سے کہا میرا جنازہ بھی یوں اٹھایا جائے

اور بے پردگی نہ ہونے دی جائے۔ (حلیۃ الاولیاء )

واقعہ نمبر 6

حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اکثر و بیشتر اپنی خوش قسمتی کا بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میں اس پر جتنا بھی فخر کروں کم ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لاڈلی بیٹی، خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کا نکاح مجھے سے کیا اور پھر میں ان کے بچوں کی وجہ سے اہل بیت میں شامل ہوا۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت جنت کے باغات میں ہوں گے اچانک ایک نور بلند ہو گا اور گمان یہی ہوگا کہ شاید سورج طلوع ہوا ہے اور پھر اہل بیت ایک دوسرے سے کہیں گے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ جنت میں سورج نہیں ہے۔ ابھی وہ یہ باتیں کرتے ہوں گے کہ اللہ عزوجل ان سے فرمائے گا یہ نور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا اور حضرت علی المرتضی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی مسکراہٹ کا نور ہے اور اس نور کی چمک سے جنت کے باغات روشن ہوں گے۔

پیارے دوستوں ہماری تحریر یہاں ختم ہوتی ہے ملتے ہیں کسی اور ایمان افروز تحریر کے ساتھ تب تک آپ نبی مکرم رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر درود پاک کے تحفے بھیجتے رہیں اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین


Post a Comment

0 Comments