حقيقی بے وقوف کون؟

 ہارون رشید کے زمانے میں ایک مجذوب تھے ۔ ان کا نام بہلول مجذوب تھا… ہارون رشید ان سے مذاق کر لیا کرتا تھا۔ لیکن ہنسی میں بھی بہلول بہت پتے کی بات بھی کہ جاتے تھے. ایک دن بہلول ہارون رشید کے پاس گئے … اس نے انہیں ایک چھڑی دی اور کہا… بہلول یہ چھڑی میں تمہیں دے رہا ہوں تمہیں جو شخص اپنے سے زیادہ بے وقوف نظر آئے یہ چھڑی اسے دے دینا.


بہلول نے ہارون الرشید سے وہ چھڑی لے لی … اور سنجیدگی سے اُٹھ کر وہاں سے چلے آئے انہوں نے اس چھڑی کو سنبھال کر رکھ دیا بات آئی گئی ہوگئی۔ شاید ہارون رشید بھی چھڑی کے بارے میں بھول سے گئے… کافی عرصہ بعد ہارون رشید سخت بیمار ہو گیا۔ بچنے کی امید نہ رہی طبیبوں نے جواب دے دیا ایسے میں بہلول ان سے ملنے کے لیے آئے انہوں نے سلام دعا کے بعد ان سے پوچھا کہ امیرالمؤمنین کیا حال ہے… ہارون رشید نے جواب دیا


بہلول ! بہت لمبا سفر در پیش ہے


کہاں کا سفر؟ بہلول نے پوچھا


آخرت کا سفر .. ہارون رشید نے کہا


بہلول نے نہایت سادگی سے پوچھا . امیر المؤمنین واپسی کب ہوگی؟۔


تم بھی عجیب ہو بہلول … بھلا آخرت کے سفر سے بھی کوئی واپس ہوا ہے


بہلول نے یہ سن کر حیرت ظاہر کی اور بولے .. اچھا!… اب آپ واپس نہیں آئیں گے


نہیں ! اس سفر سے کوئی واپس نہیں آتا


اس پر بہلول نے کہا تو پھر آپ نے اس سفر کے لیے کتنے حفاظتی دستے روانہ کیے ہیں اور آپ کے ساتھ کون کون جائے گا ۔ کیا کیا حفاظتی انتظامات ہوں گے


ہارون رشید کا منہ بن گیا… بولا کیا


بات کرتے ہو. بہلول آخرت کے سفر میں کوئی ساتھ نہیں جاتا خالی ہاتھ جارہا ہوں


اب بہلول بولے اچھا اتنا لمبا سفر اور کوئی بھی مددگار ساتھ نہیں ؟ . پھر تو یہ لیجے اپنی چھڑی یہ امانت واپس ہے.


مجھے آپ کے علاوہ کوئی انسان اپنے سے زیادہ بے وقوف نہیں ملا… آپ جب بھی چھوٹے سفر پر جاتے تھے تو ہفتوں پہلے اس کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں ۔ حفاظتی دستے آگے چلتے تھے۔ خدام ساتھ ہوتے تھے ۔ پورا لشکر ساتھ چلتا تھا۔ لیکن اتنے لمبے سفر جس سے واپسی بھی نہیں ہوگی۔ آپ نے کوئی تیاری نہیں کی ؟


 ہارون رشید یہ سن کر رو پڑا اور کہا۔ ہم تو تجھے دیوانہ سمجھتے رہے۔ آج پتہ چلا کہ۔ تمہارے برابر کا تو کوئی عقل مند ہی نہیں


Post a Comment

0 Comments