فرعون کے دریائے نیل میں ڈوب جانے کے بعد جب حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے کچھ فاصلہ طہ کر چکے تو وہ ایسی جگہ پہنچے جو بتوں کی پرستش کرتے تھے چونکہ بنی اسرائیلیوں نے آپنی پوری زندگی مصر جیسے بت پرست ملک میں گزاری تھی اس لیے وہ لوگ بتوں اور بت پرستی کے عادی ہو چکے تھے وہاں بت پرستی کا منظر دیکھ کر ان کے دلوں میں دوبارہ بت پرستی کی خواہش جاگ اٹھی تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ جس طرح ان لوگوں نے اپنے معبود بنا رکھے ہیں اسی طرح آپ بھی ہمارے لیے ایک معبود یعنی ایک بت کا تعین کردیں جس کی ہم پوجا کریں بڑی حیرت کی بات ہے کہ بنی اسرائیل اللّٰہ تعالیٰ کی اتنی واضح اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اسے بھلا بیٹھے موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا تم کتنے جاہل لوگ ہو یہ بت پرست لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں یہ برباد کرنے والا کام ہے اور سب سے بیہودہ کام ہے پھر موسیٰ علیہ السلام نے ان کو اللّٰہ تعالیٰ کے احسانات یاد کروائے بھلا یاد کرو تو کہ تم لوگ فرعونیوں کے ظلم و ستم کا شکار تھے اور اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ نے تمہیں اس کے ظلم سے نجات دی تم اس خدا سے روگردانی کرنا چاہتے ہو جس نے تم پر احسان کیے ہیں اور اس پروردگار کو بھول گئے جس نے تمہیں ذلت اور بد بختی کے گڑھے سے نکال کر خوش بختی کی منزل تک پہنچایا ہے تو پھر بنی اسرائیل اپنے ارادے سے باز آئے
پھر اللّٰہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو تورات شریف عطا کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس کے لیے کوہ طور پر 40 دن ٹھہرنے کا حکم دیا
بنی اسرائیل میں سامری نام کا ایک شخص تھا یہ نہایت گمراہ اور گمراہ کن یعنی گمراہ کرنے والا آدمی تھا اسے سونا چاندی ڈھالنے کا کام آتا تھا لوگ اس کی بات کو اہمیت دیتے تھے اور عمل کرتے تھے
چنانچہ جب اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر تشریف لے گئے گئے تو ان کے جانے کے تیس دن بعد سامری نے بنی اسرائیل سے وہ تمام زیوارت جمع کر لئے جو قبطیوں نے ان کے پاس بطور حفاظت رکھوائے تھے یا بنی اسرائیل نے اپنی عید کے دن قبطیوں سے استعمال کی خاطر لئے تھے اور فرعون کی اپنی قوم سمیت ہلاکت کے بعد واپسی کی صورت نہ رہی تھی تو یہ زیورات بنی اسرائیل کے پاس تھے ،
سامری چونکہ سونا ڈھالنے کا کام کرتا تھا اس لئے اس نے تمام سونا چاندی ڈھال کر اس سے ایک بے جان بچھڑا بنایا، نیز سامری کے پاس وہ مٹی موجود تھی جو اس نے حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کے نیچے سے حاصل کی تھی
چنانچہ سامری نے حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کے نیچے سے لی ہوئی خاک اس بچھڑے میں ڈالی تو اس کے اثر سے وہ گوشت اور خون میں تبدیل ہو گیا جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ سونے ہی کا بچھڑا تھا اور گائے کی طرح ڈکارنے لگا۔
یہ شعبدہ اور خلاف عادت امر لوگوں کے لئے اس قدر متاثر کن ثابت ہوا کہ اس کے بعد سامری نے لوگوں کو بہکانا شروع کر دیا کہ یہ بچھڑا تمہارا اور موسی کا خدا ہے چنانچہ اس کے بعد سامری نے جو لوگوں کو گمراہ کن پٹی پڑھائی تو اس کے بہکانے پر بنی اسرائیل کے بارہ ہزار لوگوں کے علاوہ بقیہ سب نے اس بچھڑے کی پوجا کی۔
آج بھی مشرک و بت پرست لوگ اپنے بتوں کے حوالے سے شعبدے دکھاد کھا کر اپنی قوم کو بت پرستی پر لگائے رکھتے ہیں، یہی حال بنی اسرائیل کا ہوا تھا کہ یہ لوگ اتنے بے وقوف اور کم عقل تھے کہ اتنی بات بھی نہ سمجھ سکے کہ یہ بچھڑا نہ تو ان سے سوال جواب کی صورت میں کلام کر سکتا ہے ، نہ ان کی کوئی رہنمائی کر سکتا ہے تو یہ معبود کس طرح ہو سکتا ہے ، حالانکہ بنی اسرائیل جانتے تھے کہ رب وہ ہے جو قادر مطلق، علیم، خبیر اور ہادی ہے۔
حضرت موسٰی علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا اے میری قوم تم اس بچھڑے کے فتنے میں مبتلا ہو گئے ہو تمہارا پروردگار رحمٰن ہے یہ بچھڑا تمہارا پروردگار نہیں لہذا میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو
حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنی قوم کو سخت تنبیہ کی مگر انہوں نے آپ علیہ السلام کی بات نہ مانی اور اپنے اس برے عمل پر قائم رہے
دوسری طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب عزوجل کی مناجات سے مشرف ہو کر کوہِ طور سے اپنی قوم کی طرف واپس پلٹے تو چونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دے دی تھی کہ سامری نے ان کی قوم کو گمراہ کر دیا ہے، اس لئے آپ علیه السلام بہت زیادہ غم و غصے میں بھرے ہوئے تھے آپ کا غصہ سامری اور اپنی قوم کے جاہلوں پر تھا جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہلے سے بتا دیا تھا کہ انہیں سامری نے گمراہ کیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: تم نے میرے بعد کتنا برا کام کیا کہ بچھڑے کو معبود بنالیا اور بقیہ لوگوں نے روکنے میں پوری کوشش نہ کی۔ تم لوگوں نے جلد بازی کی اور حکم خداوندی آنے کا بھی انتظار نہیں کیا جو میں لینے گیا تھا۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تورات کی تختیاں زمین پر ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کا ایسی بدترین معصیت میں مبتلا ہونا نہایت شاق گزرا تھا تب حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اے میری ماں کے بیٹے ! میں نے قوم کو روکنے اور ان کو وعظ و نصیحت کرنے میں کمی نہیں کی لیکن قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے تو تم مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو اور میرے ساتھ ایسا سلوک نہ کرو جس سے وہ خوش ہوں اور مجھے ظالموں کے ساتھ شمار نہ کرو۔
چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کا عذر قبول کر کے بارگاہ الہی میں عرض کی : اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی خاص رحمت میں داخل فرما اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
سامری کا انجام
اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السّلام سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے سامری ! تو نے ایسا کیوں کیا؟ سامری نے کہا: میں نے وہ دیکھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں نے نہ دیکھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا ، وہ گھوڑے پر سوار تھے ، اس وقت میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں تو میں نے وہاں سے ایک مٹھی بھر لی پھر اسے اپنے بنائے ہوئے بچھڑے میں ڈال دیا، میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا اور یہ فعل میں نے اپنی ہی نفسانی خواہش کی وجہ سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و محرک نہ تھا۔
سامری کی بات سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا
القرآن الکریم ترجمہ
تو تو چلا جا پس بیشک زندگی میں تیرے لئے یہ سزا ہے کہ تو کہے گا: ” نہ چھونا اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جس کی تجھ سے خلاف ورزی نہ کی جائے گی اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو سارا دن ڈٹ کر بیٹھا رہا، قسم ہے : ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہائیں گے۔ تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا علم ہر چیز کو محیط ۔
چنانچہ سامری کا مکمل بائیکاٹ کر دیا گیا اور لوگوں پر اس کے ساتھ ملاقات ، بات چیت ، خرید و فروخت حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقا کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہو جاتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے نہ چھوئے اور وہ وحشیوں اور درندوں میں زندگی کے دن انتہائی تلخی اور وحشت میں گزار تارہا۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ گائے کی پوجا کرنے والوں کو معافی دلوانے کیلئے 70 آدمی ساتھ لے کر کوہِ طور پر حاضر ہوں، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر گروہ سے 6 افراد منتخب کر لئے ، چونکہ بنی اسرائیل کے بارہ گروہ تھے اور جب ہر گروہ میں سے 6 آدمی چنے تو دو بڑھ گئے اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ مجھے 70 آدمی لانے کا حکم ہوا ہے اور تم 72 ہو گئے اس لئے تم میں سے دو آدمی یہیں رہ جائیں تو وہ آپس میں جھگڑنے لگے۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: رہ جانے والے کو جانے والے کی طرح ہی ثواب ملے گا، یہ سن کر حضرت کالب اور حضرت یوشع رہ گئے اور کل ستر آدمی آپ کے ہمراہ گئے۔
یہ ستر افراد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بچھڑے کی پوجانہ کی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں روزہ رکھنے ، بدن اور کپڑے پاک کرنے کا حکم دیا پھر ان کے ساتھ طور سینا کی طرف نکلے ، جب پہاڑ کے قریب پہنچے تو انہیں ایک بادل نے ڈھانپ لیا۔ حضرت موسیٰ عَلَيْهِ السَّلام ان کے ساتھ اس میں داخل ہو گئے اور سب نے سجدہ کیا۔ پھر قوم نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے جو حکم دیا وہ توبہ کیلئے اپنی جان دینا تھا۔
جب کلام کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد بادل اٹھالیا گیا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : توبہ میں اپنی جانوں کو قتل کرنے کا جو حکم ہم نے سنا اس کی تصدیق ہم اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو اعلانیہ دیکھ نہ لیں۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دیکھتے ہی دیکھتے انہیں شدید زلزلے نے آلیا اور وہ تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے گڑگڑا کر بار گاہِ الہی میں عرض کی
القرآن الکریم ترجمہ
اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو ہمیں اس کام کی وجہ سے ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا۔ یہ تو نہیں ہے مگر تیری طرف سے آزمانا تو اس کے ذریعے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تو ہمارا مولیٰ ہے، تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔ اور ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے بے شک ہم نے تیری طرف رجوع کیا
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ارشاد فرمایا
القرآن الکریم ترجمہ
میں جسے چاہتا ہوں اپنا عذاب پہنچاتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو عنقریب میں اپنی رحمت ان کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگار ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔
اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان مردوں کو زندہ فرما دیا اور یہ واپس بنی اسرائیل کے پاس لوٹ آئے۔ یہ واقعہ بھی نبی علیہ السلام کے سفارش کرنے کی ایک مثال ہے اور نبی کی شفاعت حق و ثابت ہے، اس سے دنیاو دین کی آفتیں ٹل جاتی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے ان سب کی سفارش فرمائی جو ان کے کام آئی۔
بنی اسرائیل کی توبہ:
جب بنی اسرائیل کو معلوم ہوا کہ ان کے لیے توبہ و معافی کی صورت یہ ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی ہے وہ پوجا کرنے والوں کو قتل کریں اور مجرم راضی خوشی سکون کے ساتھ قتل ہو جائیں، تو وہ لوگ اس پر راضی ہو گئے
اور صبح سے شام تک جب دس ہزار اور
بعض روایات کے مطابق ستر ہزار قتل ہو گئے تو جو لوگ باقی بچے، تب ایک بار پھر سے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام نے گڑ گڑاتے ہوئے بار گاہ حق میں ان کی معافی کی التجاء کی۔ اس پر وحی آئی کہ جو قتل ہو چکے وہ شہید ہوئے اور باقی بخش دیئے گئے، اور قاتل و مقتول سب جنتی ہیں۔
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم تم نے بچھڑے (کو معبود) بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا لہذا (اب) اپنے پیدا کرنے والے کی م بارگاہ میں توبہ کرو (یوں) کہ تم اپنے لوگوں کو قتل کرو۔ یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
سبق
پیارے دوستوں حقیقی معبود صرف اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے وہی عبادت کے لائق ہے اور کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہمیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور اپنے دکھ ، تکلیف اور مصائب کی صورت میں صرف اسی خدائے واحد کی طرف رجوع کرنا چاہیے اسی کو پکارنا چاہیے نیز یہ کہ اللّٰہ پاک کے نبی اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی کے محبوب اور مقبول بندے ہوتے ہیں ان کی شفاعت سے امت کے گناہ معاف ہوتے ہیں لہذا ہمیں چاہیے کہ نبی کریم رؤف و رحیم جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانبردار غلام اور سچے عاشق بنیں تا کہ دنیا و آخرت میں ہمارا مستقبل روشن ہو
0 Comments