پیارے دوستوں آج نہایت ہی دلچسپ واقعہ آپ کے سامنے پیش کروں گا تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اس واقعہ کو ضرور پڑھیں
روایت ہے کہ ایک روز حضرت سیدنا عثمان غنی رضی الله تعالى عنہ نے اپنے گھر حضور کریم ، روف رحیم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی دعوت کی ۔ جب دونوں عالم کے سلطان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ اپنے گھر سے جناب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے
تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے پیچھے پیچھے چلتے جاتے اور آپ کے مبارک قدموں کی طرف دیکھتے جاتے یہاں تک کہ محبوب کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ نے وجہ دریافت کی تو عرض کرنے لگے: يَارَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم ! میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہ تعالی عليهِ وَالِہ وَسَلَّم پر قربان! میری تمنا ہے کہ حضور صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم کے ایک ایک قدم کے عوض میں آپ کی تعظیم و تکریم کے لیے ایک ایک غلام آزاد کروں۔
چنانچہ حضرت سید نا عثمان غنی رضی الله تعالى عنه کے مکان تک جس قد رحضور عَلَيْهِ الصلوةُ وَالسَّلام کے قدم پڑے تھے حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنہ نے اتنی ہی تعداد میں غلاموں کو خرید کر آزاد کر دیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے اس خوبصورت عمل سے حضرت سیدنا على کرم الله تعالى وجهه الكريم اس قدر متاثر ہوئے کہ گھر آ کر اپنی زوجہ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تَعَالٰی عَنْهَا سے کہا: اے فاطمہ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا! آج میرے دینی بھائی حضرت سید نا عثمان رضی الله تعالى عنہ نے حضوراکرم صَلَّى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِہ وَسَلَّہ کی بڑی ہی شاندار دعوت کی ہے اور حضو را کرم صَلَّى اللهُ تعالی علیہ والہ وسلم کے ہر ہر قدم کے بدلے ایک غلام آزاد کیا ہے،
میری بھی تمنا ہے کہ کاش! ہم بھی حضور عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسّلام کی اسی طرح شاندار دعوت کر سکتے ۔ حضرت سیدنا فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اپنے شوہر نامدار حضرت سیدنا علی المرتضى كرم الله تعالى وجه الكريم کے اس جوشِ تاثر سے متاثر ہو کر کہا: بہت اچھا، جائیے ، آپ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قسم کی دعوت دیتے آئے إِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے گھر میں بھی اسی قسم کا سارا انتظام ہو جائے گا۔
چنانچہ حضرت سید نا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر دعوت دے دی اور شہنشاہ دو عالم صلى الله تعالى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسلم اپنے صحابہ کرام علهم الرضوان کی ایک کثیر جماعت کو ساتھ لے کر اپنی پیاری بیٹی کے گھر میں تشریف فرما ہو گئے ۔ حضرت سیدہ خاتونِ جنّت رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا یعنی تنہائی میں تشریف لے جا کر خداوند قدوس عزوجل کی بارگاہ میں سربسجود ہوگئیں اور یہ دعا مانگی
یا الله عزوجل! تیری بندی فاطمہ نے تیرے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وَالِهِ وَسَلَّم اور اصحاب محبوب عَلَيْهِمُ الرضوان کی دعوت کی ہے، تیری بندی کا صرف تجھ ہی پر بھروسہ ہے لہذا اے میرے رب عزوجل ! تو آج میری لاج رکھ لے اور اس دعوت کے کھانوں کا تو عالم غیب سے انتظام فرما۔
اپنے رب کے حضور یہ دعا مانگ کر حضرت سیدتنا بی بی فاطمہ رضی اللہ تَعَالٰی عَنْهَا نے ہانڈیوں کو چولہوں پر چڑھا دیا۔ اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کا دریائے کرم ایک دم جوش میں آگیا اور بغیر کسی قید کے رزق عطا فرمانے والے خدائے واحد نے فوراً ان ہانڈیوں کو جنت کے پاکیزہ اور لذیذ کھانوں سے بھر دیا۔
حضرت سیدنا بی بی فاطمہ رضی الله تَعَالَى عَنْهَا نے ان ہانڈیوں میں سے کھانا نکالنا شروع کر دیا اور حضور علیہ الصلوةُ وَالسَّلام اپنے صحابہ کرام رضى الله تعالٰی علیہم کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے سے فارغ ہو گئے تو خدا عزوجل کی شان کہ ہانڈیوں میں سے کھانا کچھ بھی کم نہیں ہوا اور صحابہ کرام رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمُ ان کھانوں کی خوشبو اور لذت سے حیران رہ گئے ۔ حُضوراکرم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ والہ وسلم نے صحابہ کرام رَضِيَ اللهُ تعالى عنہم کو حیران دیکھ کر فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کھانا کہاں سے آیا ہے؟
صحابہ کرام رضی الله تَعَالَى عَنْهُمُ نے عرض کیا نہیں، يَارَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم تو آپ صَلَّى الله تعالى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : یہ کھانا اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے لئے جت سے بھیج دیا ہے۔
پھر حضرت سیدنا فاطمہ رضی الله تعالى عنها تنہائی میں جا کر سجدہ ریز ہو گئیں اور یہ دعا مانگنے لگیں یا اللہ عزوجل ! حضرت عثمان رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عنہ نے تیرے محبوب کے ایک ایک قدم کے عوض ایک ایک غلام آزاد کیا ہے لیکن تیری بندی فاطمه (رضی الله تعالى عنها) کو اتنی استطاعت نہیں ہے لہذا اے خداوند عزوجل! جہاں تو نے میری خاطر جنت سے کھانا بھیج کر میری لاج رکھ لی ہے وہاں تو میری خاطر اپنے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے ان قدموں کے برابر جتنے قدم چل کر میرے گھر تشریف لائے ہیں، اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ
والہ وسلم کی امت کے گنہگار بندوں کو جہنم سے آزاد فر مادے.
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا یوں ہی اس دعا سے فارغ ہوئیں ایک دم نا گہاں حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام یہ بشارت لے کر بارگاہ رسالت میں اتر پڑے کہ یا رسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم! حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما کی دُعا بارگاہ الہی میں مقبول ہوگئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیهِ وَالِہ وَسَلَّم کے ہر قدم کے بدلے میں ایک ایک 1000 گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کر دیا۔
اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی سے گزارش ہے کہ وہ ان مبارک ہستیوں کے صدقے ہم سے راضی ہو جائے آمین
ہماری تحریر یہاں ختم ہوتی ہے ملتے ہیں کسی اور ایمان افروز واقعہ کے ساتھ تب تک آپ سب اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں درود پاک کے تحفے بھیجئے اسی کے ساتھ اللّٰہ حافظ اللّٰہ رب العزت ہم سب کا حامی و ناصر ہو
0 Comments